عظیم اداکار- محمد علی

Actor Mohammad Ali with his wife Zaiba Begum
Ali-Zaib

محمد علی 19 اپریل 1931 کو رامپور انڈیا میں پیدا ہوئے، عجیب اتفاق ہے کہ دلیپ کمار پشاور پاکستان میں پیدا ہوئے لیکن انڈیا میں جاکر دنیا میں مقبول ہوئے، اسی طرح محمد علی کی پیدائش انڈیا میں ہوئی لیکن پاکستان کے ساتھ دنیا میں مقبول ہوئے۔ آپ کل چار بہن بھائی تھے لیکن علی صاحب سب سے چھوٹے تھے، آپ کے بڑے بھائی کا نام ارشاد علی تھا۔ محمد علی کا خاندان بڑا ہی مذہبی تھا، محمد علی کا والد سید مرشد علی بڑے دینی عالم تھے، آپ کے ہاں انگریزی تعلیم کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، علی صاحب مدرسہ سے اردو، عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کرتے رہے، قیام پاکستان سے قبل ہی یعنی 1943 کو برٹش راج کے دوران آپ اپنے خاندان کے ہمراہ ملتان پاکستان آگئے، ملتان کے مقامی مسجد میں محمد علی کا والد خطیب مقرر ہوئے، آپ وہاں اپنے والد کے ہمراہ تقریباً پندرہ سال رہے،
1949 میں اسلامیہ کالج ملتان سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی، علی صاحب کے خاندان کے بیشتر لوگ حیدرآباد سندھ پاکستان میں رہتے تھے اس لیئے 1955 میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ حیدرآباد منتقل ہو گئے، محمد علی کو پائلٹ بننے کا بہت شوق تھا اور وہ پائلٹ بن کر ایئر فورس جوائن کرنا چاہتے تھے، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا، محمد علی کی آواز بہت اچھی تھی اس لیئے پارٹ ٹائم جاب کے لیئے ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں ملازمت اختیار کی، ریڈیو میں ان کی انٹری علی صاحب کے بڑے بھائی ارشاد علی کے ذریعہ ہوئی کیونکہ ارشاد علی ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں بطور ڈرامہ آرٹسٹ کام کیا کرتے تھے، محمد علی ریڈیو پاکستان کے بہترین صداکار کے طور پر نمودار ہوئے، وجہ شہرت ان کی آواز تھی اور اسی آواز نے آپ کو فلمی دنیا تک پہچانے میں مدد کی، علی صاحب کی آواز سن کر ریڈیو پاکستان کے جنرل ڈائریکٹر ذولفقار علی بخاری المعروف زیڈ اے بخاری نے محمد علی کو کراچی بلوالیا، انہوں نے علی کو آواز کی اتار چڑھاؤ، مکالموں کی ادائیگی، جذبات کے اظہارِ کا اندازِ بیان اور مائیکروفون کے استعمال کے تمام گر سکھادیئے زیڈ اے بخآری نے آپ کے آواز کی وہ تراش و خراش کی گویہ علی صاحب گوہرِنایاب ہوگئے-
 
 محمد علی نے اپنے فلمی سفر کا آغاز 1962 میں کیا، فلم کا نام تھا چراغ جلتا رہا، فلم کا افتتاح کراچی کے سینما، نشاط میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے ہاتھوں سے کیا، فلم زیادہ کامیاب تو نہ ہو سکی مگر محمد علی کی اداکاری اور مکالمے بولنے کے انداز کو دوسرے فلمساز اور ہدایتکاروں کو اپنی طرف متوجہ ضرور کر لیا، اور جلد ہی آپ کا شمار پاکستان کے معروف اداکاروں میں ہونے لگا، پہلی فلم کے بعد محمد علی نے پانچ فلموں میں بطور ولن کام کیا۔
محمد علی کو شہرت 1965 میں عیدالاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی فلم ہزار داستان سے ملی، محمد علی نے درجنوں فلموں میں بحیثیت ہیرو کے کردار ادا کیئے، آپ کی زیادہ فلمیں ان کی اپنی اہلیہ زیبا بیگم کے ہمراہ ہوئیں، اور ان پر جو گانے فلمائے گئے تھے وہ گلوکار مہدی حسن کی آواز میں تھے، احمد فراز کی شاعری، نثار بزمی کی موسیقی، مہدی حسن کی آواز گانے کے بول ہیں،"رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ" بھلا کون بھلا سکتا ہے، یہ شہر آفاق گانا بھی علی صاحب پر فلمایا گیا تھا۔
 محمد علی نے تقریباً تین سو فلموں میں کام کیا، علی زیب کی جوڑی اتنی کامیاب ہوئی کہ اُنہوں نے تقریباً 75 فلموں میں کٹھے کام کیا۔ 
 
محمد علی نے تقریباً تین سو فلموں میں کام کیا، علی زیب کی جوڑی اتنی کامیاب ہوئی کہ اُنہوں نے تقریباً 75 فلموں میں کٹھے کام کیا۔
محمد علی اور زیبا کی پہلی فلم چراخ جلتا رہا تھی، اس فلم کی شروعات سے ہی محمد علی زیبا کی محبت میں گرفتار ہو گیے، اور دل ہی دل میں زیبا جی کو چاہنے لگے، لیکن زیبا کی شادی لالا سدھیر سے ہوگئی، مگر کچھ عرصہ کے بعد سدھیر اور زیبا کے درمیان ذاتی مسئلے مسائل پر طلاق ہوگئی۔

دوستو۔ انڈ۔پاک شوبزکی بات کی جائے تو دونوں ممالک کے سب سے چوٹی کے فنکاروں کی لسٹ تو کافی طویل ہے لیکن اگر اس لسٹ میں دلیپ کمار یا محمد علی جیسے شہر آفاق نام نہ ہوں تو یہ لسٹ کسی بھی صورت میں مکمل نہیں کہی جاسکتی۔ دلیپ کمار کے بارے میں آپ پہلے ہی انہیں صفحات پر پڑھ چکے ہیں، آج پاکستان کے اس اعلیٰ پائے کے فنکار اور عظیم انسان کے بارے میں آپ کو معلومات فراہم کی جارہی ہے جس کو شہنشاہِ جذبات کے ٹائٹل سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ 

فلم "تم ملے پیار ملا" کی شوٹنگ کے دوران ہی محمد علی نے زیبا جی کو شادی کی پیشکش کی جسکو زیبا نے قبول کرلیا اور پھر 1966 میں دونوں اداکاروں نے شادی کرلی۔


Four Film stars, M Ali and his wife Zaiba, Dilip Kumar and his wife Saira Banu
Great Stars

علی زیب نے ایک بھرپور ازدواجی زندگی گذاری، آپ کی جوڑی کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں ایک احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا، زیبا جی کو محمد علی سے بہت پیار ملا، زیبا نے خود بھی اپنی وفا میں کوئی کسر نہیں چھوڑی آج بھی اپنے شوہر محمد علی سے اپنے وفا کا عہد علی زیب فاؤنڈیشن کی خدمت کر کے نبھا رہی ہیں۔

محمدعلی اور زیبا کے ہاں دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی طرح کوئی اولاد نہیں ہو سکی، لیکن ان دونوں نے اس بات کو قدرت کی مصلحت سمجھا، علی زیب نے کچھ فلمیں ڈائریکٹ اور پروڈیوس بھی کیں، محمد علی کے سابقہ وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو سے بہت اچھے تعلقات تھے لیکں علی صاحب نے پھر بھی سیاست میں باقاعدہ حصہ نہیں لیا۔

1974 میں مسلم سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیئے آئے سلطان قابوس اور شاہ فیصل نے علی زیب ہاؤس میں ہی قیام کیا تھا پاکستان کے ہر سربراہ کے ساتھ آپ کے بہت اچھے اور قریبی تعلقات رہے.

محمد علی نے تین سو فلموں میں سے جن میں بیشتر فلمیں اردو زبان میں تھیں، پندرہ فلمیں پنجابی زبان میں، چند پشتو زبان میں اور ایک بنگالی زبان میں شامل ہیں-

محمد علی نے بالی ووڈ کی ایک فلم کلرک میں بھی کام کیا لیکن مختلف وجوہات کے بناء پر وہ فلم زیادہ کامیاب نہ ہوسکی، فلمی کیریئر فلم "چراغ جلتا رہا "سے آغاز کرنےوالے محمدعلی کی آخری "فلم دم مست قلندر" تھی –

محمد علی کو پاکستان سمیت پوری دنیا سے درجنوں ایوارڈز ملے، جن میں دس نگار ایوارڈز صدر پاکستان کی جانب سے پرائڈ آف پرفارمینس ایوارڈ اور آپ کو اعلیٰ پاکستانی سول ایوارڈ تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا، آپ کو رشدی گولڈ میڈل، میلینیم لیجنڈ اسٹار گریجویٹ ایوارڈ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ، بیسٹ پرسنلٹی ایوارڈ، نیشنل اکیڈمی ایوارڈ، ایشین اکیڈمی ایوارڈ، النصر ایوارڈ دبئی، نوشیر ایوارڈ انڈیا اور دیگر کئی انعامات ملے۔

مؤرخہ 19 مارچ 2006 کو 74 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

دوستو، پاکستانی لیجنڈ اداکار آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن ان کی شاندار اور جانداراداکاری سے بھرپور فلمیں ہمارے پاس ایک یادگار سرمایہ کی صورت میں ہمیشہ موجود رہینگی۔